امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کو مکمل طور پر ان صلاحیتوں سے محروم رکھنا ناانصافی ہوگی۔
پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ خطے کے متعدد ممالک، جن میں سعودی عرب اور قطر بھی شامل ہیں، بیلسٹک میزائل رکھتے ہیں، اس لیے ایران کے پاس بھی مناسب تعداد میں ایسے میزائل موجود ہونا ایک فطری بات ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ جوہری پروگرام سے الگ ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں میزائل پروگرام شامل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ دفاعی نوعیت کے روایتی ہتھیاروں اور میزائلوں پر الگ تناظر میں بات کی جا سکتی ہے۔
