امریکا اور ایران نے کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران جامع معاہدے کی تیاری کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں اسی دستاویز پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک میں دستخط کی تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنیوا میں متوقع مذاکراتی اجلاس کے حوالے سے حتمی تصدیق چند گھنٹوں میں کی جائے گی، تاہم وفود کی شرکت تاحال طے شدہ شیڈول کے مطابق ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کے فارسی اور انگریزی دونوں متون پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے تشریحی اختلافات یا قانونی ابہام سے بچا جا سکے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اگلے 60 روز کے دوران ثالث ممالک کی موجودگی میں مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع اور مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات، مالیاتی لین دین، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور سرفہرست ہوں گے۔
