قومی اسمبلی اجلاس میں 43 کھرب 85 ارب سے زائد کے 88 مطالباتِ زر کثرت رائےسے منظور کرلیے گئے، ان مطالباتِ زر کے خلاف بھی کسی قسم کی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں دفاع اوردفاعی پیداوارکے 30کھرب 69 ارب 35 کروڑ کے7 مطالبات،مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے کےمطالبات زرمنظور کیے گئے،جبکہ تعلیم کے 192 ارب 70 کروڑ، آبی وسائل کے 107 ارب 32 کروڑ سے زائد کےمطالبات زر منظور ہوئے۔
کابینہ سیکرٹریٹ کے 35 ارب 38 کروڑ 69 لاکھ کے 10مطالبات زرکی منظوری خارجہ امورکیلئے 68 ارب 17 کروڑ،قومی صحت کے لیے 53 ارب 28کروڑ،آئی ٹی کے 42 ارب 7 کروڑ،منصوبہ بندی ڈویژن کے 37 ارب 21 کروڑ کے مطالبات زرمنظور کیے۔
اس کے علاوہ صنعت و پیداوار کےلیے 29 ارب 53 کروڑ 96 لاکھ کےمطالبات زرکی بھی منظوری اطلاعات و نشریات کےلیے 27 ارب 57 کروڑ 13 لاکھ روپےکےمطالبات،تجارت کیلئے 27 ارب 99کروڑ،قانون و انصاف کیلئے 24 ارب 91 کروڑروپے،ہاؤسنگ وتعمیرات کےلیے 22 ارب 31 کروڑ 99 لاکھ روپے کےمطالبات زر بھی منظور،سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 19 ارب 54 کروڑ،اقتصادی امور کیلئے 15 ارب ایک کروڑ،ریلوے 111 ارب 13 کروڑ،بین الصوبائی رابطہ کے 5 ارب 2 کروڑ کےمطالبات زر شامل کیے گئے۔
جبکہ بحری امور کےلیے 4 ارب 12 کروڑ،قومی ورثہ کےلیے 3 ارب 4 کروڑ کے مطالبات زر، امورکشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 3 ارب 18 کروڑ،سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ 54،انسانی حقوق کے لیے 2 ارب 33 کروڑ،مذہبی امور کے 2 ارب 40 کروڑ،پارلیمانی امور کے ایک ارب 20 کروڑ،قومی اسمبلی کیلئے 9 ارب 3 کروڑ اور سینیٹ کیلئے 3 ارب 21 کروڑ کے مطالبات زر منظور کیے گئے ہیں۔
