لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
لبنانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور قومی فیصلوں کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور کوئی بھی فریق یا گروہ ریاست کی جگہ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کی جانب سے مذاکرات یا فیصلے کرنے کا اختیار صرف آئینی اداروں کو حاصل ہے۔
جوزف عون نے کہا کہ لبنانی عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری کسی مخصوص گروہ یا جماعت پر نہیں بلکہ حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی اختلاف اور جمہوری مسابقت ایک فطری عمل ہے، تاہم سیاسی قوتوں کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے اختلافات ریاستی استحکام، قومی مفادات اور ترقیاتی عمل میں رکاوٹ نہ بنیں۔
لبنانی صدر نے اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو جنگ بندی اور خطے میں استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔
