قطر کے اہم صنعتی مرکز راس لفان گیس کمپلیکس میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 66 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں اور تمام متاثرین کو فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوحہ سے عرب میڈیا کے مطابق قطری وزیر توانائی Saad Sherida Al-Kaabi نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں پاکستان اور بھارت کے شہری بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں قطری، پاکستانی، بھارتی، نیپالی، بنگلادیشی، کینیا، تنزانیہ، گنی اور نائجیریا کے شہری شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے مختلف طبی مراکز میں داخل کیا گیا ہے۔
قطری وزیر توانائی نے واضح کیا کہ راس لفان میں پیش آنے والا واقعہ ایک حادثہ تھا اور اس کا تعلق کسی جارحیت یا تخریب کاری سے نہیں ہے۔
سعد الکعبی کے مطابق حادثے کے باوجود قطر کی گیس برآمدات یا مقامی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی، کیونکہ ملک کے پاس گھریلو استعمال کے لیے قدرتی گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق اس حادثے سے ماحولیات پر کسی منفی اثرات کا خدشہ نہیں ہے اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
راس لفان انڈسٹریل سٹی دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) مراکز میں شمار ہوتا ہے اور قطر کی توانائی برآمدات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
