ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کو آزاد ہونے والے منجمد اثاثوں کو صرف امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عبدالناصر ہمتی نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں ہے جس کے تحت تہران کو امریکی مصنوعات خریدنے کا پابند بنایا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں دستیاب ہونے والے 6 ارب ڈالر بنیادی ضروریات، خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے ہیں، تاہم ان اشیا کی خریداری کسی مخصوص ملک یا امریکی منڈی تک محدود نہیں ہے۔
عبدالناصر ہمتی کے مطابق ایران پر امریکا سے زرعی یا دیگر مصنوعات خریدنے کی کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی مصنوعات معیار اور قیمت کے اعتبار سے دیگر ممالک کی مصنوعات سے بہتر ثابت ہوتی ہیں تو ایران ان کی خریداری میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرے گا، تاہم ایسا کرنا لازمی نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے تحت دستیاب ہونے والے باقی 6 ارب ڈالر صرف خوراک اور ادویات تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ ایران ان فنڈز کو دیگر ایسی مصنوعات کی درآمد کے لیے بھی استعمال کر سکے گا جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں نہیں آتیں۔
