امریکی سینیٹ میں ایران جنگ روکنے کے لیے ‘وار پاورز ایکٹ’ منظور، صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد آج پیش

امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے روکنے کی ہدایت کرنے والی قرارداد منظور کر لی ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی جانب سے ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی پر یہ اب تک کی سب سے کڑی اور غیر معمولی تنقید قرار دی جا رہی ہے۔

سینیٹ نے تاریخی ‘وار پاورز ریزولیوشن’ (جنگی طاقتوں کی قرارداد) کے حق میں 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظوری دی۔ یہ قرارداد رواں ماہ کے اوائل میں ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) سے پہلے ہی پاس ہو چکی تھی۔ تہران کے ساتھ حالیہ غیر مقبول تنازعے کے بعد خود صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے کچھ سینیٹرز نے بھی اس قانون کی حمایت کی، جو صدر کی جنگی حکمتِ عملی پر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 میں ‘وار پاورز ایکٹ’ کے نفاذ کے بعد سے کانگریس کے دونوں ایوانوں نے صدر کو امریکی مسلح افواج کو دشمنی سے ہٹانے کی براہِ راست ہدایت جاری کی ہے۔ یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ کی اجازت مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے