نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران امریکا تنازع کے حل میں پاکستان نے انتہائی فعال کردار ادا کیا۔ 47 سال بعد دونوں ملکوں کے ایک میز پر بٹھایا ۔ اللہ کا خاص کرم ہے امن معاہدہ کروا کر پاکستان نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کہا امریکا اور ایران کے درمیان اصل معاہدہ 19 جون کو جنیوا سوئٹزر لینڈ میں ہونا تھا۔ 18 جون کو اطلاع ملی امریکا اور ایران کے صدور نے ایم او یو پر الیکٹرانک دستخط کر دیئے ہیں۔ پھر بطور ثالث وزیراعظم شبہاز شریف نے بھی 3 صفحے کی دستاویز پر دستخط کئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مل کر پاکستان کو بطور ثالث چنا۔ پاکستان کو آج دنیا بھر میں پیس میکر اور ثالث ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں کچھ باضابطہ راؤنڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روزصبح تک چلتے رہے۔ مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غیرجانبدار ثالت کی حیثیت سے پاکستان نے امانت کے طور پر دونوں طرف سے کوئی چیز پبلک نہیں ہونے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ عزت دی۔ آج پاکستان کو پیس میکر قرار دیا جا رہا ہے۔ قاہرہ میں جی فور اجلاس کے دوران کہا گیا پاکستان خطے میں سیکیورٹی پرووائیڈر بن گیا ہے۔
