اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور ڈنمارک کی جانب سے پیش کی گئی تاریخی مشترکہ قرارداد ’’امن دستوں کے خلاف جرائم کا محاسبہ‘‘ کثرتِ رائے سے منظور کر لی، جسے عالمی سطح پر امن فوجیوں کے تحفظ اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اس قرارداد کو ریکارڈ 153 رکن ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے ساتھ عالمی یکجہتی اور حمایت کا واضح اظہار ہے۔
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں، جنہیں عام طور پر ’’بلیو ہیلمٹس‘‘ کہا جاتا ہے، کے خلاف حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دستاویز کے مطابق امن فوجیوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی امن کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آ سکتی ہیں۔
سلامتی کونسل نے قرارداد کے ذریعے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ امن دستوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
قرارداد کی ایک اہم شق کے تحت اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ میں ایک خصوصی سینئر فوکل پوائنٹ کا عہدہ بھی قائم کیا جائے گا، جو امن فوجیوں کے خلاف جرائم کے معاملات، تحقیقات، احتساب اور رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
