ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عدلیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور جارحیت کے نتیجے میں ایرانی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کی قانونی پیروی کو ترجیح دے اور متاثرین کے حقوق کی بحالی کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر اقدامات کرے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے آیت اللہ محمد بہشتی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی برسی، جو ایران میں "ہفتہ عدلیہ” کے طور پر منائی جاتی ہے، کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات میں ایرانی قوم کے اجتماعی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا فرض صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق، قومی خودمختاری، جائز آزادیوں کے تحفظ، بدعنوانی کے خاتمے، انصاف کے نفاذ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا بھی اس کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ان فرائض کی مؤثر انجام دہی سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ گزشتہ سال سے ایران کے خلاف ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے جسمانی، نفسیاتی، معاشی اور دیگر نقصانات کی بنیاد پر متعدد قانونی مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات کو ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورمز پر بھی پوری سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مناب اور لامرڈ سمیت مختلف علاقوں میں بچوں کی ہلاکتوں، شہری آبادی، اسپتالوں، طبی مراکز اور عوامی خدمات کی تنصیبات پر حملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے عوامی بیانات، جن میں انہوں نے ان کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا، ممکنہ قانونی کارروائیوں میں اہم شہادت کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سپریم لیڈر نے عدالتی حکام کو ہدایت کی کہ گزشتہ سال شروع کیے گئے قانونی عمل کو مزید وسعت دی جائے اور تمام متعلقہ مقدمات پر اس وقت تک کارروائی جاری رکھی جائے جب تک ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی فیصلے نافذ نہیں ہو جاتے۔
