ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دشمن ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالوانے میں ناکام رہا۔ تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران کی جنگی اور سفارتی حکمت عملی پر بات کی۔ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اسی قوت کے ساتھ مذاکرات بھی کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ جنگ مسلط کرنے والوں کو بعد میں مذاکرات کی درخواست کرنا پڑی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی قوم نے بظاہر دنیا کی سب سے بڑی فوج کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے سفارت کاری کے میدان میں بھی کامیابی حاصل کی۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران اس صورتحال سے فاتح بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت سے حاصل ہونے والی کامیابیاں سفارت کاری کے ذریعے مزید مضبوط ہوتی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس مفاہمتی عمل کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ عباس عراقچی کے مطابق اسرائیلی حکومت مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے امن معاہدہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت نے مفاہمتی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کی۔ عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں جنگ اور سفارت کاری کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان میں حاصل ہونے والی طاقت سفارتی عمل کو مضبوط بناتی ہے۔
