زیلنسکی نے کوسٹیانتینیوکا پر روسی قبضے کا دعویٰ مسترد کر دیا، شہر اب بھی یوکرین کے کنٹرول میں ہے

Zelensky warns Belarus to avoid engaging in war with Russia

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے اہم صنعتی شہر کوسٹیانتینیوکا پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر اب بھی یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے اور روس محض پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روسی فوج نے صدر ولادیمیر پوتن کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے ڈونیٹسک کے اس اہم شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جسے ماسکو طویل عرصے سے اپنی فوجی مہم کا ایک اہم ہدف قرار دیتا رہا ہے۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا "یہ بالکل درست نہیں ہے۔ یہ صرف ایک اور روسی جھوٹ ہے اور مصنوعی کامیابی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے۔”

انہوں نے روسی صدر پوتن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کوسٹیانتینیوکا روس کے قبضے میں ہوتا تو پوتن کو جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کی خاطر وہاں ان سے ملاقات کرنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے