مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا اسپتال منتقلی اور انکی ہمشیرہ وڈاکٹر کی ان سے ملاقات کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔
سعدرفیق نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ کا کھویا ہوا وقار بحال ہو گا، سچ یہ ہے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہوا، برسات کی حبس زدہ رُت میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے، اس فیصلہ پر معزز جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ہیں، اگر اس میں ریاستی منشا شامل ہے تو اسے بھی سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور زندگی انتہائی اہم ہیں،اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، انکی جماعت اور اہل خانہ کو بھی اس حوالہ سے آئندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے، انکاذمہ دارانہ رویہ اگلے راستے کھُلنےکی صورت متعین کر سکتا ہے، کوئی بھی شخص اتناطویل عرصہ قید تنہائی میں رکھا جائیگا تو اسکی صحت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ان کا کہناتھا کہ جیل اپنے قیدی کو کسی نہ کسی بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ہے،یہ آپ بیتی بھی ہے اورجگ بیتی بھی، اگر قیدی آپکا سیاسی مخالف ہو تو اسکی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی اشد ضروری ہو جاتی ہے،بہتر ہوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی بہرحال دیر آیددرست آید کے مصداق اب فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
سعد رفیق نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کیلئے آسانی کا معاملہ پیدا ہونے دیاجائے ،ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجازچوہدری،عمر چیمہ،محمود الرشید سمیت پی ٹی آئی کے باقی اسیران بھی ایسی توجہ کے حقدارہیں، اس موقع پر طعنہ زنی،گالی گلوچ اور انکے دور ِاقتدار کی سختیاں یاد کرنےیا دہرانے کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ہے۔
