صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے غزہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے ریکارڈ پر جاری تنازع کے بعد صحافی کی موجودہ تعریف برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔
تنظیم کے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ صحافی کی تعریف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ ان خبروں کی بھی تردید کی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنظیم غزہ اور لبنان میں ہلاک ہونے والے بعض فلسطینی صحافیوں کو اپنی فہرست سے مستقل طور پر خارج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب 25 جون کو سی پی جے نے اعلان کیا کہ غزہ اور لبنان میں ہلاک ہونے والے 20 افراد کے نام اپنے صحافیوں کے ڈیٹا بیس سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
تنظیم کے مطابق ان میں سے آٹھ افراد کی شناخت بعد ازاں حماس یا فلسطینی اسلامی جہاد کے جنگجوؤں کے طور پر ہوئی، جبکہ مزید 12 افراد کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر فہرست سے نکالا گیا۔
سی پی جے بورڈ کے چیئرمین جیکب ویزبرگ نے ایک بیان میں کہا کہ بورڈ نے صحافی کی موجودہ تعریف برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اس بارے میں گردش کرنے والے الزامات درست نہیں کہ تنظیم فلسطینی یا لبنانی صحافیوں کو خارج کرنے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف تنظیم کی ساکھ بلکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی دستاویز سازی کے کئی سالہ کام کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ زمینی حقائق رپورٹ کرنے والے صحافی آج بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
یہ فیصلہ بورڈ کے سابق رکن اور ڈراپ سائٹ نیوز کے پبلشر نیکا سون-شیونگ کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر صحافی کی تعریف دوبارہ کھولی گئی تو اس پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس کے نتائج عالمی صحافتی برادری کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔
سی پی جے کی موجودہ پالیسی کے مطابق ریاستی میڈیا یا کسی مسلح گروہ سے وابستہ میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کو بھی صحافی تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ براہِ راست مسلح کارروائیوں میں شریک نہ ہوں یا تشدد پر اکسانے میں ملوث نہ ہوں۔
ادھر فلسطینی مصنف محمد الکرد سمیت متعدد ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر صحافی کی تعریف تبدیل کی گئی تو اس سے فلسطینی صحافیوں کو بعد از مرگ جنگجو قرار دینے کے اسرائیلی مؤقف کو تقویت مل سکتی ہے۔
