نو منتخب وزیرِاعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نےحلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا گلگت بلتستان کو گڈ گورننس کی مثال اور ماڈل صوبہ بنایا جائے گا،تاہم اس کے لیے وفاق کو اپنے مالی وعدے پورے کرنا ہوں گے۔

انہوں نےکہاکہ گلگت بلتستان تین اہم خطوں کو ملاتا ہے،اس لیے افغانستان، تاجکستان اور چین کے ساتھ مواصلاتی اور تجارتی روابط مزیدمضبوط بنانے کی ضرورت ہے،بطور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چین کے ساتھ موسمی تجارت کو آل ویدر ٹریڈ میں تبدیل کیا،جبکہ سائنو پاک معاہدے کا کریڈٹ بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے،ذوالفقارعلی بھٹو نےچین سے دوستی کی بنیاد رکھی اور آصف علی زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھی۔

 مزید کہا گلگت بلتستان کی آبادی تقریباً 18 لاکھ ہے اور یہاں شفافیت، اصلاحات اوربہترطرز حکمرانی کے ذریعے عوامی مسائل حل کیے جائیں گے،علاقے کا بجٹ 258 ارب روپے بنتا ہے،جبکہ وفاق نے اب تک 142 ارب روپےدینےکی یقین دہانی کرائی،جوناکافی ہے،سبسڈی کی مد میں 29 ارب روپےدرکار تھے، لیکن وفاق نے اسے کم کر کے 15 ارب روپے کر دیا، جو ناانصافی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے،جہاں بعض علاقوں میں 22گھنٹےتک بجلی کی بندش کاسامنا ہے،اسکی وجہ کہیں فنڈزکی کمی اورکہیں انتظامی کمزوریاں ہیں،وفاقی حکومت کےزیرِتکمیل بجلی منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے