امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی تازہ دھمکی کے بعد تہران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ دھمکی آمیز زبان کے بجائے احترام کے ساتھ بات کی جائے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ایسے صدر سے مخاطب ہیں جو ایران کے تقریباً 9 کروڑ 10 لاکھ عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، بصورت دیگر ایران بھی اسی انداز میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد باقر ذوالقدر نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم ان کوششوں کا نتیجہ امریکا کے لیے ناکامی، مایوسی اور بعد ازاں مذاکرات اور جنگ بندی کی درخواست کی صورت میں سامنے آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے یا امریکی فیصلہ کن کارروائی کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکی فوج مختصر وقت میں ایران کے اہم پلوں، بجلی کے نظام اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی سفارتی حل کو اپنی اولین ترجیح بھی قرار دیا تھا۔
