امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انڈیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بڑے آپریشن میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق کارروائی کے دوران 24 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 37 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار اور مطلوب افراد پر قتل، اغوا، بھتہ خوری، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ملزمان کا تعلق انڈیا میں سرگرم تین بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے ہے، جن میں بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ بھی شامل ہے۔
ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس
امریکی استغاثہ نے بشنوئی گینگ کے سربراہ لارنس بشنوئی اور اس کے قریبی ساتھی ستندر جیت سنگھ عرف گولڈی برار پر 2023 میں کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق لارنس بشنوئی نے جیل میں قید ہونے کے باوجود اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو ہدایات جاری کیں، جبکہ گولڈی برار کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
امریکی حکام کا مؤقف
ایف بی آئی کے لاس اینجلس فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے کہا کہ کارروائی ان گروہوں کے خلاف کی گئی ہے جو امریکا اور دیگر ممالک میں تشدد، دھمکی اور منظم جرائم کے ذریعے اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فرسٹ اسسٹنٹ امریکی اٹارنی بل ایسیلی نے کہا کہ بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کی پوری طاقت استعمال کی جائے گی۔
حکام کے مطابق 10 ملزمان اب بھی مفرور ہیں، جن میں سے بعض امریکا، انڈیا اور یورپ میں موجود ہو سکتے ہیں۔
ہردیپ سنگھ نجر کون تھے؟
ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما تھے جو خالصتان تحریک کے سرگرم حامی سمجھے جاتے تھے۔ انڈیا نے انہیں 2020 میں دہشت گرد قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا تھا۔
جون 2023 میں نجر کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گوردوارے کی پارکنگ میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کینیڈا اور انڈیا کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے تھے، جبکہ اُس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ قتل میں بھارتی حکومت کے ممکنہ کردار سے متعلق قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں، جس کی نئی دہلی نے تردید کی تھی۔
