امریکا کے ایران کی ساحلی دفاعی تنصیبات پر فضائی حملے جاری، جوابی طور پرامریکی اڈے بھی نشانے پر رہے

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے بدھ کے روز ایران کی ساحلی دفاعی تنصیبات، میزائل اڈوں اور فوجی مراکز پر متعدد فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا اعلان کیا۔

رائٹرز کے مطابق یہ تازہ جھڑپیں ایک نازک جنگ بندی کے خاتمے کے چند روز بعد سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بتایا کہ حملوں کی پہلی لہر میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخائر اور گریٹر تنب جزیرے پر موجود لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں دوسری کارروائی میں بندر عباس سمیت مختلف علاقوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، ڈرون اور میزائل تنصیبات اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے مقصد سے کی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزید پیچیدہ فوجی کارروائیوں سے قبل ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ضروری سمجھا گیا۔

دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی بیان کے مطابق کویت کے علی السالم ایئر بیس پر امریکی فوجیوں کے اجتماع اور ایک ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے جزیرہ خارگ کی جانب جانے والے ایک آئل ٹینکر کو متعدد انتباہات نظر انداز کرنے کے بعد ناکارہ بنا دیا۔ امریکی حکام کے مطابق بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد دو بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا جبکہ ایک جہاز کو کارروائی کے ذریعے روک دیا گیا۔

ایرانی میڈیا نے بندر عباس، اہواز، قشم، کنارک، سیرک اور دیگر ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ وسطی ایران کے شہر خندب میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا۔

سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے دعویٰ کیا کہ اہواز میں امریکی حملے ایک ایسے اسپتال کے قریب ہوئے جہاں بچوں کے کینسر کے علاج کا مرکز موجود ہے، جس کے باعث اسپتال کو عارضی طور پر خالی کرانا پڑا۔ اس دعوے پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے