کراچی میں کلفٹن کے ساحل پر بڑی تعداد میں سیپیاں آگئیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنکیکی مشیر معظم خان کا بتانا ہے کہ مون سون میں سمندری لہریں تیز ہونے سے سیپیاں ساحل پر آتی ہیں، کلفٹن کے ساحل پر آنے والی سیپیاں بلڈ کلیم کہلاتی ہیں اور ان سیپیوں میں ہیموگلوبن کے باعث ان کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔
معظم خان کےمطابق عالمی سطح پر یہ سیپیاں ذوق و شوق سےکھائی جاتی ہیں تاہم سمندری آلودگی کے باعث شہری ساحل پر سیپیاں کھانے سے گریز کریں کیونکہ کراچی کے ساحل پر موجود سیپیاں شدید مضرِ صحت ہوسکتی ہیں۔
تکنکیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا تھاکہ سیپیوں کے ساتھ پلاسٹک اور دیگر کچرا بھی تعفن کا باعث بن رہا ہے، کراچی کا سمندر انسانی سرگرمیوں کےباعث آبی حیات سےمحروم ہورہاہے۔
