یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز نے فیفا کی جانب سے اپنی نئی تجارتی کمپنی میں اقلیتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آئندہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن (UEFA) کی 55 رکن تنظیموں کے ایک ورچوئل اجلاس میں کیا گیا، جس میں فیفا کے مجوزہ منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ مجوزہ بائیکاٹ اگلے سال برازیل میں ہونے والے ویمنز فیفا ورلڈ کپ اور 2030 فیفا ورلڈ کپ تک پھیل سکتا ہے، جس کی میزبانی اسپین، پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر کریں گے۔
فیفا نے حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ وہ FIFA Forward Enterprises کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کر رہا ہے، جو فیفا ورلڈ کپ، کلب ورلڈ کپ اور دیگر بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی حقوق اور کاروباری سرگرمیوں کا انتظام کرے گی۔ تاہم فیفا بطور عالمی گورننگ باڈی برقرار رہے گا اور نئی کمپنی میں اکثریتی حصص اپنے پاس رکھے گا۔
منصوبے کے تحت فیفا کمپنی کے 21 فیصد تک حصص فروخت کرکے تقریباً 4.2 ارب ڈالر جمع کرنا چاہتا ہے، جسے بعد ازاں رکن فٹ بال ایسوسی ایشنز کی ترقی پر خرچ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس تجویز کو نافذ کرنے سے قبل فیفا کی 211 رکن ایسوسی ایشنز اور فیفا کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور اس کی تجارتی کامیابی کو عالمی سطح پر کھیل کی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دنیا بھر میں فٹ بال کی پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب یوئیفا (UEFA) نے اس منصوبے کو فٹ بال کی روایتی حکمرانی کے اصولوں سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کے انتظامی اداروں کو اس حد سے آگے نہیں جانا چاہیے۔
