اے آئی جی اور ایس ایس پی پر بھروسہ نہیں، پوری تفتیشی ٹیم بدلی جائے: وکیل والد میر رضا

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سے تفتیش نہیں کی جارہی اور میر رضا کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ اےآئی جی کراچی نے کہا خاندان مان لے کہ میر رضا نے خودکشی کی لیکن میر رضا کو تھوڑی پر انجری ہوئی تھی اور ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا جس سے  لگتا ہے کہ میر رضا کو مارنے سے پہلے مکے مارے گئے اور اس کے جسم سے کالا مواد ملاہے جس  کو فرانزک کیلئے لیبارٹری بھیجا ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ ثابت ہو گیا کہ میر رضا کی کمر پر گولی لگی جس کے اثرات پانچویں پسلی پر آئے اور گولی کی وجہ سے میر رضاکے پھیپڑوں میں خون بھر گیا تھا تاہم تصدیق ہو گئی  ہے کہ گولی پیچھے سے ماری گئی سامنے سے نہیں، میر رضا کے پاؤں کے انگوٹھے پر زخم ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ 17سیمپلز فرانزک  کیلئے بھیجے گئے ہیں ، میر رضا کا بہیمانہ قتل کیا گیا ، اےآئی جی اور ایس ایس پی کی تحقیقاتی ٹیم پر بھروسہ نہیں ہے اس لیئے ہم پوری تفتیشی ٹیم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتےہیں جبکہ اس حوالے سے ہم عدالت میں جاکر اپنی استدعا رکھیں گے۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ بورڈارکان کو تبدیل کر کے تماشہ کیاگیا،کیااسپیشل میڈیکل بورڈقبرستان گیا؟پوری تحقیقاتی ٹیم تبدیل ہونی چاہیے کیونکہ صرف تحقیقاتی ٹیم کا تبدیل ہونا کافی نہیں ہو گا اس لیئے بہت سوچ سمجھ کر ٹیم بنائیں ورنہ ہم عدالت سےرجوع کریں گے۔

انہوں ے کہا کہ گیسٹ ہاؤس ملوث ہو گا،ہمیں اب بھی شک ہےلیکن مالک کون ہے؟ کسی کو بھتہ لینا ہو گا تو اس نے لوگوں کو ہائر کیا ہو گا کیونکہ جہاں سے میر رضا کی لاش ملی یہاں سےکچھ عرصے میں یہ تیسری لاش ملی ہے،تفتیشی ٹیم میں اچھی شہرت کے پولیس افسران کوشامل کیاجائے۔ وکیل کا کہناتھا کہ میررضا کے والدین نے پوسٹ مارٹم رپورٹ وصول کرلی ہے۔

جبران نے کہا کہ تفتیش کے نام پر ازدواجی معاملات کی خبریں چلانا شرمناک ہے اس لیئے آئی جی سندھ اس حوالے سے وضاحت دیں  کیونکہ پولیس کوڈر ہے کہ کہیں یہ قاتلوں تک نہ پہنچ جائیں، میررضاکی فیملی کے مالی معاملات ڈسکس کئے جا رہے ہیں اور ان کی  فیملی کودباؤمیں لانے کے حربے کئے جا رہے ہیں ، پولیس تفتیش نہیں کر رہی ہے بلکہ فیملی کو ہراساں کر رہی ہے،خاندان کو گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر کہا کہ خودکشی ہے اسکو مان  لیں۔

ان کا کہناتھا کہ پولیس افسران معاملے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دے رہے تھے،14سوالات میڈیکل بورڈ لے کر گیا تھا ان کے جواب لایا ہے، مختلف سیمپلز لے کر بھیجے گئے تھے،تشدد کے نشانات واضح تھے، چہرے کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں،باڈی پر کالا مواد ملا ہے جو عموماً نہیں پایا جاتا، حلق تک وہ مواد پایا گیا،ثابت ہو گیا گولی کمر سے لگی اور سینے سے نکلی، پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں ایسے بھی شواہد ملے ہیں،پیر کے انگوٹھے پر بھی انجری ملی ہے، میر رضا کے جسم پر کالے دھبے کیوں تھے 17 سیمپلز لئے گئے ہیں، یہ بے گناہ نوجوان کا قتل ہے،پولیس تفتیش نہیں کرنا چاہتی، ہمیں بھروسہ نہیں،پوری تفتیشی ٹیم بدلنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے