یمن میں کشیدگی پر پاکستان کو گہری تشویش، سیاسی عمل کی بحالی پر زور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن ایک بار پھر وسیع تنازع کی طرف بڑھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن پر بریفنگ کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے نسبتاً سکون کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے حوثیوں کے حالیہ حملوں اور الحدیدہ، ماریب اور حضرموت سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ مزید کشیدگی یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ اس کے ساتھ سفارتی کوششوں کے لیے دستیاب گنجائش بھی محدود ہو جائے گی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے 11 اگست کو تجارتی بحری جہاز تہامہ پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق حملے میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشیائی عملہ ہلاک ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں سات دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسے حملے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ اور انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر کی بریفنگ کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں بریفنگز میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت نمایاں رہی۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کوششوں میں یمنی فریقوں، علاقائی ممالک اور عالمی شراکت داروں سے رابطے شامل ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق یمنی قیادت اور یمنی ملکیت میں اقوام متحدہ کی سہولت کاری سے ہونے والا سیاسی عمل ہی پائیدار حل کا مؤثر راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کئی برس سے جنگ اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں ایک اور کشیدگی کے نتائج نہیں بھگتنا چاہئیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام کوششیں سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول بحال کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان یمن میں پائیدار اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے