روس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی مسترد کر دی

روس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ماسکو نے اسے ’’آدھا اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے جمعہ کو اس حوالے سے بیان جاری کیا۔ وزارت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔

روس اور یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں بحیرہ اسود میں حملے تیز کیے ہیں۔ ان حملوں میں تجارتی بحری جہاز بھی متاثر ہوئے ہیں۔

بحیرہ اسود میں کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی اناج کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یوکرین پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین شہری جہاز رانی کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

زاخارووا کے مطابق یوکرین کی کارروائیوں کا مقصد کشیدگی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات تنازع کو مزید طول دے سکتے ہیں۔

روسی ترجمان نے کہا کہ ماسکو کو صورتحال میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی وجہ سے روس کسی عارضی جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتا۔

ماریا زاخارووا نے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔

ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ ترکی نے روس اور یوکرین کو تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد بحیرہ اسود میں فوجی کارروائیاں روکنا تھا۔

زاخارووا نے کہا کہ روس کو ترکی سے کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔ اس لیے ماسکو نے کسی رسمی تجویز پر غور نہیں کیا۔

رائٹرز کے مطابق یوکرین نے بھی ایک تجویز روس تک پہنچائی ہے۔ اس میں شہری بحری جہازوں کے خلاف حملے روکنے کی بات کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک تیسرے فریق کے ذریعے روس تک پہنچائی گئی۔ مقصد بحیرہ اسود میں شہری جہاز رانی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے