وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ آئین چیزوں کو واضح کرتاہے اگر ایسے حالات پیدا ہوئے یا ہیں اور جہاں پر آئین اجازت دیتا ہے کہ گورنر راج لگایا جائے یا ایمرجنسی نافذ کی جائے تو پھر بالکل لگ سکتی ہے اور لگے گی بھی۔
تفصیلات کے مطابق اعظم نذیر تارڑ کا کہناتھا کہ آئین میں طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے اور جب ضرورت ہو گی اور آئینی شرائط پوری ہوں گی تو یہ سب چیزیں بھی ہوں گی ۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اورگورنر راج کی بحث کی نوبت کیوں آئی؟پرسوں ڈی آئی خان میں خودکش حملہ ہوا،آج ٹانک میں3ٹریفک پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا،کے پی میں گورننس اور کرپشن کے بھی مسائل ہیں،وزیرقانون نے کہا ہے جب ضرورت پڑے گی تو گورنر راج لگ سکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج کی نوبت آئے گی تو دیکھا جائے گا،یہ نہیں کہوں گا ہو رہا،ہوبھی سکتاہے،کوئی خوشی سے گورنرراج نہیں لگاتا،مجبوری کے تحت چیزیں ہوتی ہیں،باقی جماعتوں نے پُرامن لانگ مارچ کیے،تحریک انصاف امن کی نہیں،انتشارکی بات کر رہی ہے، پی ٹی آئی کا انتشار کا مقصد ہو تو کیسے احتجاج کی اجازت دے سکتے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنرراج کی ضرورت پڑے گی تو صدر اور وزیراعظم دیکھ سکتے ہیں،کے پی حکومت کی دہشتگردوں کےخلاف زیروٹالرنس نہیں ہے، کے پی حکومت افغان حکومت سے بات چیت کا کہتی ہے،جو پاکستان کےآئین وقانون کو نہیں مانتےاُن سے مذاکرات کریں؟
