امریکا نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ نیتن یاہو آبادکاروں کے اقدامات کی کھل کر مذمت کریں۔ آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں فلسطینی گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
یہ انکشاف امریکی اور اسرائیلی حکام نے کیا ہے۔ حکام کے مطابق محاصرہ تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔آبادکاروں نے تین فلسطینی گھروں کے باہر راستے بند کر دیے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو گھروں سے نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان گھروں کی بجلی اور پانی بھی منقطع کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 15 فلسطینی گھروں میں محصور ہیں۔ ان میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کو خوراک اور پانی کی شدید ضرورت ہے۔اس واقعے پر امریکا کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے آبادکاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے فلسطینی گھروں کا محاصرہ کرنے والے آبادکاروں کو ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ ہکابی مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے حامی بھی رہے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ محصور خاندانوں میں فلسطینی نژاد ایک امریکی شہری کا گھر بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کی۔ انہوں نے مغربی کنارے میں استحکام کو اہم قرار دیا۔
ان کے مطابق مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے اسے خطے میں امن کے امریکی ہدف سے بھی جوڑا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تاحال واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔ ان کے دفتر نے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
