26 اگست کو پمز میں بھڑکنے والی آگ نے جہاں کئی ننھی جانیں چھین لیں، وہیں ایک ایسے معصوم بچے کی زندگی کا چراغ بھی بجھا دیا جسے دنیا میں لانے والے ہی اسے دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے تھے۔
ننھا علی دو ماہ قبل پمز میں پیدا ہوا تھا، تاہم اس کی ماں اور نانی اسے ہسپتال میں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ کئی دن تک یہ معصوم اپنی شناخت سے محروم رہا اور اس کے ہاتھ پر صرف ’’بے بی ایچ‘‘ کا ٹیگ لگا رہا۔
نرسوں نے بے نام بچے کو پیار سے علی کا نام دیا۔ طبیعت بگڑنے پر اسے آئی سی یو منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔
26 اگست کو پمز میں لگنے والی آگ کے دوران ننھا علی بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ موت کے بعد بھی اس معصوم کا کوئی وارث اسے لینے نہیں آیا اور مردہ خانے میں پڑا ننھا وجود اپنوں کا منتظر رہا۔
اس دوران ماں کی راہ تکنے والے ننھے علی کو لینے کوئی واپس نہ آیا۔ پمز انتظامیہ نے بچے کو لاوارث قرار دے کر ایدھی سینٹر کے حوالے کردیا۔
ایدھی سینٹر نے اپنوں کے ٹھکرائے اس معصوم کو آخری ٹھکانہ دیا اور عزت و احترام کے ساتھ اس کی تدفین کر دی۔
ننھے علی کو زندگی میں اپنی شناخت نہ مل سکی، مگر جن اپنوں نے اسے تنہا چھوڑ دیا تھا، ان کی عدم موجودگی میں ایدھی سینٹر نے اسے آخری سفر میں تنہا نہیں چھوڑا۔
