اسلام آباد: نئے صوبوں کی ضرورت، بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر مبینہ طور پر دو بڑے نیوز چینلز پر سنسر کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
دستیاب میڈیا مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق 30 جولائی کو وفاقی وزیر داخلہ کی ویڈیو دونوں چینلز پر نشر ہوتی رہی، تاہم بعض مواقع پر نشریات میں آواز مبینہ طور پر بند کر دی گئی۔ اس صورتحال کو بظاہر تکنیکی خرابی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم بعد ازاں سامنے آنے والے سرکاری اشتہارات کے اعداد و شمار نے معاملے پر مزید سوالات اٹھا دیے۔
میڈیا مانیٹرنگ سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق یکم اور 2 اگست کو سندھ حکومت کی جانب سے مذکورہ دونوں نیوز چینلز کو نمایاں اشتہاری رقوم دی گئیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان دو روز کے دوران سندھ حکومت کے نیوز چینلز پر مجموعی اشتہاری اخراجات کا تقریباً 80 فیصد انہی دو چینلز کو مختص کیا گیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایک چینل کے لیے تقریباً 4 کروڑ 38 لاکھ جبکہ دوسرے کے لیے 4 کروڑ 30 لاکھ روپے کے اشتہاری اخراجات ریکارڈ کیے گئے، یوں دونوں چینلز کو مجموعی طور پر تقریباً 8 کروڑ 68 لاکھ روپے کی رقم بنتی ہے۔
ان اعداد و شمار کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سرکاری اشتہارات کی یہ غیر معمولی تقسیم محض معمول کے اشتہاری فیصلوں کا حصہ تھی یا اس کا تعلق 30 جولائی کی مبینہ نشریاتی سنسرشپ سے بھی تھا۔
تاہم اشتہاری اخراجات اور مبینہ سنسرشپ کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ، چینلز کا مؤقف اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
معاملے نے سرکاری وسائل کے استعمال، میڈیا کی آزادی، عوام کے حقِ معلومات اور سیاسی و انتظامی اصلاحات سے متعلق بحث کو بھی تقویت دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی خزانے سے خرچ ہونے والی رقوم کا استعمال شفاف، غیر جانب دار اور عوامی مفاد کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں سے متعلق محسن نقوی کی تقریر مبینہ طور پر سنسر، سندھ حکومت کے اشتہاری اخراجات پر سوالات
