اسلام آباد ہائیکورٹ نے پتوکی کے سابق اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے ایک سال بعد قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نےفیصلہ جاری کرتے ہوئےڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آبادکو 10 روز میں قبرکشائی اوردوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل کرانےکی ہدایت کی ہے۔
عدالت کےمطابق فرقان احمد 2025 میں سیلابی علاقوں میں ریلیف آپریشن کے بعد ایک ریسٹ ہاؤس میں مردہ پائے گئےتھے،تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان کی موت کی اصل وجہ سے متعلق سوالات کا تسلی بخش جواب سامنے نہیں آسکا۔
عدالت نےقراردیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی ہلاکت کو محض انتظامی تنازع کےطور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ مرحوم کےوالدبیٹےکی موت کی حقیقت جاننے کےلیےمسلسل درخواستیں اوریاد دہانیاں دیتےرہے اور مختلف سرکاری دفاتر سے رجوع کرتے رہے۔
عدالت نے اپنےفیصلے میں کہاکہ ایک سوگوار باپ ریاست کے دروازےکو مسلسل کھٹکھٹا رہا ہے اور وہ کسی ذاتی یا مالی فائدے کےبجائےصرف اپنے بیٹےکی موت کی حقیقت جانناچاہتا ہے،والد کے اصرار کو غیرضروری ضد قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عدالت نےکہا کہ تدفین کےبعد بعض شواہد قدرتی طور پر بتدریج کم یا ختم ہوجاتے ہیں،اس لیے انتظامی تاخیر اس حد تک برداشت نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی شخص کے لیے نقصان دہ بن جائے۔
عدالت نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
فیصلے کے مطابق متعلقہ حکام، مرحوم کے والد یا ان کے نمائندے اور تفتیشی افسر قصور کو بھی کارروائی میں شامل رکھا جائے گا۔
