سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے ایک حوثی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اتحاد کے مطابق ڈرون مکہ کے جنوب میں سعودی فضائی حدود کے قریب پہنچا تھا۔اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بدھ کو واقعے کی تفصیلات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی فضائی دفاع نے ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ترجمان کے مطابق ڈرون مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ترکی المالکی نے کہا کہ مقدس مقامات اور زائرین کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اسے ایک ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔ان کے مطابق اتحاد حوثیوں کے خلاف ضروری حفاظتی اقدامات کرے گا۔اتحاد کے ترجمان نے مزید کارروائی کی نوعیت واضح نہیں کی۔مکہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس شہر ہے۔ یہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج کے لیے آتے ہیں۔
المالکی نے موجودہ واقعے کو مکہ کی جانب دوسری کوشش قرار دیا۔ان کے مطابق جولائی 2017 میں بھی ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔سعودی حکام نے منگل کو ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیے۔ان علاقوں میں مکہ اور دیگر شہر بھی شامل تھے۔
یہ پیش رفت سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے ’سبا‘ کے مطابق گروپ نے سعودی دعوے کو مسترد کیا۔ حوثی عسکری ذرائع نے مکہ یا دیگر مقدس مقامات کے لیے خطرے کی تردید کی۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب میں مختلف اہداف پر حملوں کا بھی اعلان کیا۔ان میں پیر کے روز ایک فضائی اڈے پر حملہ بھی شامل تھا۔حوثیوں نے ان حملوں کو یمن میں ہونے والی فضائی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا۔
