سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف دفاعی مدد کے لیے علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے رابطہ کیا ہے۔دو علاقائی عہدیداروں کے مطابق ریاض کو میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی کا سامنا ہے۔ان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے ساتھ جاری کشیدگی نے سعودی دفاعی ضروریات بڑھا دی ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے رابطہ کیا ہے۔ریاض نے خطے میں فضائی دفاعی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔اس مدد کا مقصد میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاع مضبوط بنانا ہے۔عہدیداروں کے مطابق حوثیوں کے علاوہ دیگر ایران نواز تنظیموں سے بھی خطرات موجود ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔امریکہ سعودی عرب کا اہم اتحادی اور بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔دونوں عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ ان کے پاس میڈیا کو باضابطہ بریفنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔سعودی حکام نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’’کان‘‘ نے ایک سعودی ذریعے کا حوالہ دیا۔ذریعے کے مطابق اسرائیل حوثیوں کے خلاف مدد کرے تب بھی سعودی مؤقف نہیں بدلے گا۔اس کے مطابق ریاض فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں کرے گا۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب نے اسرائیل سے مدد مانگی ہے یا نہیں۔سعودی عرب پہلے بھی اپنے مؤقف کا متعدد بار اظہار کر چکا ہے۔
