پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی رابطے رہے ہیں، محسن نقوی کے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے ہیں جبکہ گوہر خان، عامر ڈوگر اور اسد قیصر سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا سیاسی مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا موقف، تاہم کسی سمجھوتے یا مفاہمت کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا زیادہ مفید نہیں ہوگا، اگر کسی معاملے پر مفاہمت بن جائے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورتحال بھی دیکھ رہی ہے۔

رانا ثناء اللہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی کامیابی کیلئے صوبائی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے، اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، آپریشن کی کامیابی کیلئے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے، کیونکہ پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سول انتظامات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملات پر مشیر وزیراعظم نے کہا کہ یہ امور قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طے ہونے چاہئیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع کرنے کیلئے منگل کا وقت دیا گیا تھا، تاہم ملاقاتوں کو سیاسی طور پر استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا سیاسی استعمال ہی بعد میں مسئلے کا سبب بنا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سمیت تمام معاملات پر مکمل بات چیت ہوئی تھی اور یہ اتفاق بھی ہوا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو بات چیت کیلئے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے