میناب اسکول حملہ: امریکا کے خلاف مقدمات کے لیے غیر ملکی وکلا بھی متحرک

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ میناب اسکول حملے کے معاملے پر امریکا کے خلاف قانونی کارروائیوں میں غیر ملکی وکلا بھی شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے وکلا رضاکارانہ طور پر مقدمات دائر کرنے کے لیے آگے آرہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں غریب آبادی نے بتایا کہ متعدد غیر ملکی قانونی ٹیموں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ان کے بقول، بعض ممالک کی عدالتوں میں بھی اس حملے کے حوالے سے امریکا کے خلاف مقدمات دائر کیے جاچکے ہیں۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ میناب اسکول سانحے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مختلف ممالک کی عدالتوں سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی قانونی برادری پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر مزید مقدمات دائر کرے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق، ایران قانونی کارروائی کرنے والے غیر ملکی وکلا کو شواہد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ وکلا ایرانی حکام یا سول سوسائٹی سے رابطہ کرکے ضروری مواد حاصل کرسکتے ہیں۔

غریب آبادی نے اس کوشش کو متاثرین کے لیے انصاف کی جدوجہد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو مقدمات کافی نہیں۔ مختلف عدالتوں میں مزید قانونی کارروائیاں ہونی چاہییں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ میناب اسکول پر امریکی حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں طلبہ، اساتذہ، اسکول کا عملہ اور والدین شامل تھے۔

غریب آبادی کے مطابق، یہ حملہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے پہلے روز کیا گیا۔ واقعہ 28 فروری 2026 کو صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ اسکول پر پیش آیا۔

ایرانی حکام نے حملے کو شہریوں، خصوصاً بچوں کے خلاف سنگین کارروائی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی فوج کی تحقیقات سے متعلق رپورٹس میں بھی اس حملے میں امریکی افواج کے ممکنہ کردار کا ذکر سامنے آیا ہے۔ تاہم، ذمہ داری اور واقعے کے حالات سے متعلق تحقیقات کو قانونی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے