بھارت میں انتخابی احتجاج پر گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کی گرفتاریوں پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے تشویش ظاہر کی ہے۔ دفتر کے مطابق، مظاہرین، سیاسی رہنماؤں، وکلا اور صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پُرامن اجتماع کے حق کا مکمل احترام کریں۔ دفتر نے حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے جنہیں مبینہ طور پر من مانے انداز میں حراست میں لیا گیا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر ضروری مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارتی مؤقف کے مطابق، یہ بیان ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

بھارت نے کہا ہے کہ پُرامن اجتماع کا حق آئین میں تسلیم شدہ ہے۔ تاہم، حکومت کے مطابق اس حق پر امن عامہ کے تحفظ کے لیے معقول پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے ذریعے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا گیا۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق، انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے پر تنازع پیدا ہوا ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے حزبِ اختلاف کے حامی ووٹرز متاثر ہوئے۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں میں سیاسی بنیادوں پر ردوبدل کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ان کا مؤقف ہے کہ ناموں کا اخراج اموات، رہائش کی تبدیلی اور ایسے افراد کی عدم دستیابی سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر کیا گیا۔

بھارتی پولیس نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں احتجاج روکنے کے لیے 2 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں نوجوان، سیاسی کارکن اور دیگر مظاہرین شامل تھے۔ ممبئی سمیت دوسرے شہروں میں بھی احتجاج کے دوران گرفتاریاں اور حراستیں عمل میں آئیں۔

ممبئی میں اداکار عمران خان کو بھی احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ اس کارروائی پر بعض فنکاروں اور سماجی شخصیات نے تنقید کی۔

نئی دہلی میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے اور دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ ایک سال تک امن عامہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے