ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار جاری

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران امریکی ردعمل کا جائزہ لینے کے بعد اپنا مؤقف ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گا۔

اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور روس کے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی طویل تاریخ موجود ہے۔ جوہری شعبہ بھی اس تعاون کا حصہ رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران دوست اور شراکت دار ممالک کی معاونت اور حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے ایران کی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کی کوششوں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش دفاعی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد دباؤ ڈالنا نہیں ہے۔

ایرانی ترجمان نے آبنائے ہرمز کی بندش کو بین الاقوامی قانون کے مطابق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہنے تک آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دو اسلامی ممالک کے درمیان جنگ اور دشمنی جاری نہیں رہنی چاہیے۔

ترجمان نے تمام فریقین سے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تنازع حل کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔

پاکستان اور قطر ایران امریکا رابطوں میں ثالثی کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات کم ہوں اور مذاکرات کا راستہ کھلا رہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے