سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 13 ہزار 889 افراد گرفتار، 10 ہزار 431 بے دخل

یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یو اے ای کا جنوبی عبوری کونسل کو کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے: سعودی عرب

سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف ملک گیر کارروائیاں جاری ہیں۔ یکم سے 7 اکتوبر کے دوران 13 ہزار 889 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی عرصے میں 10 ہزار 431 غیر ملکیوں کو ملک سے بے دخل کردیا گیا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ کارروائیاں متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے کی گئیں۔ حکام نے مختلف قوانین کی خلاف ورزیوں پر گرفتاریاں کیں۔ غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے اور وہاں قیام کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گرفتار افراد میں 6 ہزار 785 اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب تھے۔ سرحدی سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہے میں 3 ہزار 710 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مزید 3 ہزار 394 افراد کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔

حکام نے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہزار 382 افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں 66 فیصد ایتھوپیا، 33 فیصد یمن اور ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب سے غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوشش کرنے والے 34 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق 33 ہزار 113 غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان میں 30 ہزار 438 مرد اور 2 ہزار 675 خواتین شامل ہیں۔

حکام نے 18 ہزار 947 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے متعلقہ ممالک کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا۔ مزید 4 ہزار 596 افراد کو وطن واپسی کے سفری انتظامات مکمل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا گیا۔وزارتِ داخلہ کے مطابق اس دوران 10 ہزار 431 غیر ملکیوں کو بے دخل بھی کیا گیا۔

سعودی حکام نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ٹرانسپورٹ، رہائش یا ملازمت فراہم کرنے کے الزام میں 21 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے والوں کی مدد کرنا سنگین جرم ہے۔ ایسے افراد کو ملک کے اندر منتقل کرنے، پناہ دینے یا کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنے پر سخت سزا ہوسکتی ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق غیر قانونی داخلے میں سہولت کاری کرنے والوں کو 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ غیر قانونی افراد کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی ضبط کی جاسکتی ہیں۔ انہیں رہائش فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادیں بھی ضبط ہوسکتی ہیں۔سعودی وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ قوانین کی خلاف ورزیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

مکہ مکرمہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں اس مقصد کے لیے ہیلپ لائن 911 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 کے نمبرز پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے