نیٹو کمانڈر کی روس کو وارننگ، حملے کی صورت میں بھرپور فوجی جواب دیں گے

نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اتحاد کے کسی رکن ملک پر حملہ ہوا تو بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماسکو نے نیٹو کے علاقے پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو حملے میں ملوث ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔

وارسا سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے جنرل نے نیٹو کو دفاعی اتحاد قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے دشمن کی کارروائی روکنے کے لیے تین نکاتی حکمت عملی بھی بیان کی۔ اس حکمت عملی میں حملہ روکنا، دشمن کی پیش قدمی محدود کرنا اور اس کی جنگی صلاحیت کو توڑنا شامل ہے۔

جنرل گرنکیوچ نے کہا کہ نیٹو کسی بھی اتحادی ملک پر حملے کو ناکام بنائے گا۔ ان کے مطابق اتحاد کا مقصد دشمن کو اپنے اہداف حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک حملہ کرنے کی حماقت کرتا ہے تو نیٹو لڑے گا۔ اتحاد اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسی رکن ملک پر حملہ مکمل طور پر بے سود ثابت ہو۔

جنرل نے واضح کیا کہ نیٹو کا ردعمل صرف حملے میں براہِ راست ملوث فوجی دستوں تک محدود نہیں ہوگا۔ اگر دشمن حملہ جاری رکھتا ہے یا اپنے اضافی دستے میدان میں اتارتا ہے تو اتحاد اس کے پورے جنگی نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ان کے مطابق اس کارروائی میں حملہ آور فوج کے ساتھ اسے مدد، وسائل اور کمان فراہم کرنے والے نظام بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

جنرل کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک اور روس کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یورپی حکومتیں ماسکو پر تخریب کاری، ڈرون دراندازی اور سائبر حملوں میں اضافے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔

روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ماسکو نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو نے اس کے علاقے کیلننگراڈ کا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کی تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہے۔

جنرل گرنکیوچ نے اپنی تقریر میں روس کا نام براہِ راست نہیں لیا۔ تاہم، ان کا پیغام واضح طور پر ماسکو کے لیے تھا۔ نیٹو کے 2022 کے اسٹریٹجک تصور میں روس کو اتحاد کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے رواں ماہ کہا تھا کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ماسکو پرامن بقائے باہمی چاہتا ہے۔

تاہم، یورپی رہنماؤں نے ان بیانات پر مکمل اطمینان ظاہر نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملے سے پہلے بھی ایسے بیانات دیے تھے۔

روس نے تخریب کاری اور دیگر ہائبرڈ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو بھی بارہا مسترد کیا ہے۔

نیٹو کے دفاعی عزم سے متعلق یورپی اتحادیوں کے خدشات بھی اس بیان کے پس منظر میں اہم ہیں۔ یہ خدشات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو کے اجتماعی دفاعی معاہدے سے متعلق عزم کے حوالے سے سامنے آتے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا۔ اس کے تحت روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرسکے گا۔ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید بھی دہرائی۔ان اقدامات نے یورپی اتحادیوں میں امریکی پالیسی اور نیٹو کے مستقبل سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کیا ہے۔

جنرل گرنکیوچ نے کہا کہ انہوں نے اتحاد کے دفاعی منصوبوں پر عوامی سطح پر بات کرنے کا فیصلہ حالیہ تخریب کاری اور آتش زنی کے واقعات کے باعث کیا۔ ان واقعات نے یورپی ممالک میں تشویش پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے ایک ارب شہریوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ صورتِ حال اتحاد کے قابو میں ہے۔ ان کے مطابق نیٹو کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اپنے دفاعی منصوبوں پر کیسے عمل کرنا ہے۔

جنرل نے یہ پیغام ان افراد تک پہنچانے کی خواہش بھی ظاہر کی جو نیٹو کے رکن ممالک کو نقصان پہنچانے کا سوچ رہے ہیں۔

جنرل گرنکیوچ نے واشنگٹن کے نیٹو سے عزم کے بارے میں خدشات کم کرنے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کا حوالہ دیا۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس میں اتحاد کے لیے اپنی ’’محبت‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ جنرل نے کہا کہ وہ اس وقت کمرے میں موجود تھے اور انہوں نے اس وابستگی کو محسوس کیا۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے