ٹرمپ سے اختلافات کے باوجود ایلون مسک کے ری پبلکن پارٹی کو 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے عطیات

امریکی ارب پتی ایلون مسک نے مڈٹرم انتخابات کے لیے ری پبلکن پارٹی کی مالی مدد بڑھا دی ہے۔ جولائی سے اب تک ان کے عطیات 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ان عطیات کا مقصد کانگریس میں ری پبلکن اکثریت برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے۔ یہ اعدادوشمار سب سے پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیے۔

بعد ازاں، مسک کی سیاسی ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے بھی ان اعدادوشمار کی تصدیق کردی۔ رائٹرز کے مطابق، رواں انتخابی دور میں مسک کے مجموعی سیاسی اخراجات تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوچکے ہیں۔

مسک نے سینیٹ کے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والے گروپ سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دیے۔ یہ گروپ ری پبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم میں مدد کرتا ہے۔

ان کی اپنی سیاسی ایکشن کمیٹی، امریکا پی اے سی، کو بھی 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ملے۔ یہ گروپ ووٹرز کو متحرک کرنے اور انتخابی مہم چلانے میں سرگرم ہے۔مسک نے ٹیکساس میں ری پبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والے لون اسٹار لبرٹی پی اے سی کو بھی ایک کروڑ ڈالر دیے۔

رپورٹس کے مطابق، دیگر عطیات میں 2 کروڑ ڈالر کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ کو دیے گئے۔ ری پبلکن گورنرز ایسوسی ایشن کو ایک کروڑ ڈالر ملے۔ ری پبلکن اٹارنی جنرلز ایسوسی ایشن کو بھی 20 لاکھ ڈالر دیے گئے۔

مسک کی مالی مدد سے وابستہ گروپ مختلف انتخابی حلقوں میں سرگرم ہیں۔ ان کی کوششوں میں ووٹرز سے رابطہ اور ری پبلکن امیدواروں کی حمایت شامل ہے۔

امریکا پی اے سی کئی اہم ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں چلا رہی ہے۔ اس کا مقصد ری پبلکن ووٹرز کو متحرک کرنا اور انہیں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینا ہے۔

رواں انتخابی دور یکم جنوری 2025 سے شروع ہوا تھا۔ اس دوران مسک کے مجموعی سیاسی اخراجات تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔یہ رقم 2024 کے انتخابی دور میں ان کے تقریباً 29 کروڑ ڈالر کے اخراجات سے زیادہ ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے