مشرق وسطیٰ جنگ سے بحری راستوں کی بندش کے باعث سردیوں میں گیس بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
قطر سے ایل این جی سپلائی بحال نہ ہونے پر گیس کی طلب پوری کرنا بڑا چیلنج ہوگا، وزارت پیٹرولیم نے ونٹر گیس پلان پرکام شروع کر دیا۔ قطر سے سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں اسپاٹ کارگو منگوانےکی تجویز زیرغور ہے۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق سردیوں میں مجموعی طور پر21 ایل این جی کارگو درکار ہوںگے، اسپاٹ کارگو قطری ایل این جی کی نسبت17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگا پڑے گا، ایل این جی اسپاٹ کارگو کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں پڑتی ہے۔ قطرسے طویل المدتی کنٹریکٹ کےتحت 13 سے16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتا ہے۔
وزارت پیٹرولیم ونٹر گیس پلان کی منظوری وفاقی حکومت سے لے گی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ونٹرگیس پلان پرعملدرآمد ہوگا۔ پاکستان سردیوں میں گیس کی قلت کا 40 فیصد ایل این جی کے ذریعے پورا کرتا ہے، قطرسےایل این جی کی عدم بحالی مہنگا اسپاٹ کارگو منگوانے سے صارفین پر اضافی پڑے گا۔
