بدھ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس مچھلی منڈی بنا رہا۔ وقفہ سوالات سے پہلے نکتہ اعتراض پہ بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ نعرے بازی کے دوران ہی حکومت کی جانب سے مختلف بل بھی پیش کیے گئے ۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کااجلاس ،،،،اپوزیشن کی جانب سے ایک با ر پھر ہنگامی آرائی،،،،وقفہ سوالات سے پہلے نکتہ اعتراض پہ بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج ۔۔۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھا ڑ دیں ۔۔
اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت مانگی ۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کا موقع نہیں دے سکتا۔۔ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلوں پر یوٹرن نہیں لوں گا۔ اس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کیا لیکن وزیر اعظم کی آمد پر ا یوان میں واپس آ گئی۔۔
شور شرابے کے دوران ہی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا جو ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ وزیر قانون نے کہاکہ پیکا ایکٹ میں شہادت کو ماڈرن ڈیوائسز سے ریکارڈ کرانے کی ترمیم سمیت مختلف تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران وزرات داخلہ حکام کے تاخیر سے آنے اور چند سولات کے جواب نہ ملنے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا ا ظہار کرتے ہوئے حکام کو چیمبر میں طلب کیا۔ بعد ازاں اسپیکر قو می اسمبلی نے اجلاس جمعرات دن 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.