وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاہے کہ نیٹ میٹرنگ کے لیے نئی ریگولیشن کا اطلاق وفاقی کابینہ نے موخر کردیا ۔ وزیر اعظم جلد بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرینگے۔ اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور چیئرمین کمیٹی نے آئی پی پیز سے مہنگے معاہدوں کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا۔۔
سینیٹرمحسن عزیز کی زیر صدارت توانائی کمیٹی کااجلاس ،،،، پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین پر نئی پالیسی کا اطلاق نہیں ہوگا ،،2لاکھ 83ہزار صارفین مستفد ہوسکیں گے ،،، وزیر توانائی اویس لغاری کا بیان ۔۔۔ دوران اجلاس سینیٹر شبلی فراز اور اویس لغاری کےدرمیان تکرار
اجلا س کے دوران شبلی فراز نے اویس لغاری سے کہاکہ آپ کے اعداد و شمار درست نہیں، 10روپے کی بجلی خرید کر 50 روپے میں کیوں بیچ رہے ہیں،کیا یہ 40 روپے جگا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے؟ وزیر توانائی نے کہاکہ اگر ہم یہ کوشش نہ کریں تو دس سال بعد آپ دگنی قیمت پر بجلی خریدیں گے اور مجھے مورد الزام ٹھہرائیں گے ۔شبلی فراز نے کہا یہ آپ ہی کی لگائی ہوئی آگ ہے،پہلے آپ نے کہا سولر لگوائیں ،اب کہہ رہے ہیں کہ اربوں روپے کا بوجھ پڑ گیا ؟ آپ لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں تو کون سولر پینل لگائے گا۔ شبلی فراز نے مزید کہاکہ وزیر اعظم نے کہا کہ 8 روپے بجلی سستی کر رہے ہیں ، اویس لغاری نے کہا کہ آپ وزیر اعظم کو مس کوٹ کر رہے ہیں،میں نے اور نہ ہی وزیر اعظم نے ایسی بات کی ۔
وزیر توانائی کاکہناتھاکہ 29آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی ہو چکی ہے ، 14 کے ساتھ بات چیت جاری ہے جبکہ 6 کے کنٹریکٹ منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔ آئی پی پیز کیاتھ معاہدوں پر نظر ثانی سے 235ارب کی بچت ہوگی ۔ چیئرمین کمیٹی اور شبلی فراز نے مطالبہ کیاکہ آئی پی پیز کیساتھ مہنگے معاہدوں کے ذمہ داران کو سامنے لایاجائے ۔۔