صدر ٹرمپ ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی بہادری کے معترف ہو گئے۔ دی ہیگ میں نیٹو کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ بہادری سے جنگ لڑی۔ وہ ایرانی عوام کی استقامت کے معترف ہیں۔
انہوں نے کہا امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے بات چیت شروع ہو رہی ہے اور امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ کا کامکان نہیں۔ ایران اسرائیل تنازع اب ختم ہوچکا ہے، اب دونوں تھک چکے ہیں، دونوں جنگ کے خاتمے سے بہت مطمئن ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کی تباہی کےجائزے میں صرف اسرائیلی انٹیلی جنس پر انحصار نہیں کر رہے، ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھیں گے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے بہت کامیاب رہے، ایران کی جوہری تنصیبات اب فعال نہیں رہیں، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا بھی کہنا ہے کہ ایرانی تنصیبات کو بہت نقصان ہوا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نےایران پر بہت تیزی سےحملہ کیاتھا، جوہری مواد منتقل کرنےکا وقت نہیں ملا تھا۔ جیسے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر حملے سے جنگ رکی ایسا ہی ایران پر حملے سے ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگلے ہفتے ایران سے بات ہوگی، معاہدے پر دستخط بھی ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں، انہوں نے جنگ لڑ لی، اب واپس اپنی دنیا میں جا رہے ہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ امریکا نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے، دوبارہ دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا اپنے دشمنوں کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔
