غزہ — فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے انتظامی امور میں حصہ نہیں لے گی اور اس حوالے سے تمام اختیارات فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کیے جائیں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق حماس کمیٹی کا اہم اجلاس ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوا، جس میں تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے غزہ کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے کیے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ حماس انتظامی امور کی منتقلی کے دوران مداخلت نہیں کرے گی اور سیز فائر معاہدے کے تحت غزہ کا کنٹرول فلسطینی عوام کا حق تسلیم کرے گی۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کا بنیادی ہدف غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کرنا ہے، لہٰذا وہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی رکاوٹ کا سبب نہیں بنے گی۔
خبر ایجنسی کے مطابق حماس نے مزید کہا کہ غزہ امن سمٹ، جو مصر میں منعقد ہونے جا رہی ہے، کے دوران سیز فائر معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس موقع پر بین الاقوامی ضمانت دہندگان کی موجودگی میں نئے انتظامی امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے غزہ میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
