امریکا اور اسرائیل نے توانائی گزرگاہوں میں عدم استحکام پیدا کیا، الزام ایران پر ڈال دیا گیا: ترجمان وزارت خارجہ

ایران کا دوٹوک مؤقف: غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، جنگ مسلط ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اہم عالمی توانائی گزرگاہوں میں جان بوجھ کر عدم استحکام پیدا کیا اور پھر اس کا الزام ایران پر ڈال دیا۔

تہران میں میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے عالمی توانائی منڈیوں میں امن و استحکام کے تحفظ کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور انہیں ایران کے خلاف غیر قانونی جنگی کارروائیوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور ایران کے خلاف بلاجواز فوجی اقدامات کے ذریعے اہم توانائی گزرگاہوں کو غیر مستحکم کیا گیا۔ ان کے بقول بعد ازاں اسی عدم استحکام کا الزام ایران پر عائد کر دیا گیا۔

اسماعیل بقائی نے اپنی گفتگو میں نازی جرمنی کے وزیرِ اطلاعات جوزف گوبلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جو کام خود کرو، اس کا الزام دوسروں پر لگا دو” کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایک روایتی حکمت عملی کے تحت پہلے بحران اور جنگی ماحول پیدا کرتے ہیں، پھر امن اور استحکام کی بحالی کے نام پر مزید کارروائیوں کو جواز فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے رومی سیاست دان ٹیسی ٹس کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “وہ تباہی پیدا کرتے ہیں اور اسے امن کا نام دیتے ہیں۔”

ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے، آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی سپلائی روٹس کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے