ابوظہبی کے براکہ جوہری پاور پلانٹ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ابوظہبی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الظفرہ ریجن میں واقع براکہ جوہری پاور پلانٹ کے حفاظتی حصار کے بیرونی حصے میں موجود ایک الیکٹریکل جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی، جو مبینہ طور پر ڈرون حملے کے باعث لگی۔
حکام کے مطابق امدادی اور سیکیورٹی ٹیموں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پالیا اور پاور پلانٹ کے مرکزی یا حفاظتی نظام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
Federal Authority for Nuclear Regulation (ایف اے این آر) نے تصدیق کی کہ پلانٹ کے تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور جوہری تحفظ کے معیار مکمل طور پر برقرار ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کی ریڈیائی آلودگی یا ماحول پر اثرات سامنے نہیں آئے، جبکہ تمام حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
ابوظہبی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کے باوجود متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے واقعات وقتاً فوقتاً رپورٹ ہو رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے حالیہ دنوں میں ایران پر فجیرہ بندرگاہ اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
