شرم الشیخ — مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے غزہ جنگ بندی اور امن معاہدے پر باقاعدہ طور پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد خطے میں دیرپا امن، انسانی بحالی اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس کی صدارت مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، برطانوی وزیراعظم، فرانسیسی صدر، اٹلی اور اسپین کے وزرائے اعظم سمیت متعدد عالمی رہنما اجلاس میں شریک ہوئے۔
غزہ معاہدے پر دستخط کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا “یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے — ایک ایسا دور جس میں امن، باہمی احترام اور انسانی وقار کو ترجیح حاصل ہوگی۔”
مصری صدر السیسی نے کہا کہ مصر نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق اور علاقائی امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ سے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، معاہدے میں درج بنیادی نکات میں شامل ہیں:
-
فوری جنگ بندی اور تمام فریقین کی جانب سے عسکری کارروائیوں کا خاتمہ۔
-
یرغمالیوں اور قیدیوں کا مکمل تبادلہ۔
-
غزہ میں انسانی امداد کی غیر مشروط فراہمی۔
-
سیاسی عمل کی بحالی اور فلسطینی انتظامیہ کو غزہ کے انتظامی اختیارات کی منتقلی۔
اجلاس کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس معاہدے کو “امن کی بحالی کی طرف پہلا حقیقی قدم” قرار دیا۔
