مقبوضہ بیت المقدس — مقبوضہ بیت المقدس کے گورنریٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اردگرد جاری کھدائیوں سے مسجد کے بعض حصے منہدم ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نہ صرف مقدس مقام کے اردگرد بلکہ پرانے شہر کے نیچے سرنگیں کھود رہا ہے جو قریبی یہودی بستیوں کو آپس میں ملانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
گورنریٹ کے مشیر معروف الرفاعی نے العربیہ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کھدائیاں مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور اس عمل سے قدیم عمارتیں، مکانات اور اسکولز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “اسرائیل نہ صرف مسجد اقصیٰ کے موجودہ اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور توسیع پسندانہ مقاصد بھی پوشیدہ ہیں۔”
الرفاعی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے علاقے میں تازہ کارروائیاں کرتے ہوئے فلسطینیوں کی ورکشاپس، فیکٹریوں اور دھاتی مصنوعات بنانے والے کارخانوں کے انہدام کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مسجد اقصیٰ کے قریب سے نئی سڑک اور پل تعمیر کر کے اناتا جنکشن کو حزمہ چیک پوائنٹ سے جوڑنے کا ارادہ ہے۔
دوسری جانب، جمعرات کی صبح یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، درجنوں آباد کار فوجی سکیورٹی کے حصار میں مسجد کے صحن میں داخل ہوئے، جو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی دانستہ کوشش تھی۔
اس دوران اسرائیلی فورسز نے مسجد کے تمام دروازوں پر سکیورٹی سخت کر دی اور علاقے میں فوجی نفری میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
