مسجد اقصیٰ کو شدید خطرہ — اسرائیلی کھدائیوں سے بعض حصے منہدم ہونے کا خدشہ، گورنریٹ مقبوضہ بیت المقدس کا انتباہ

یروشلم: مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کے لیے مسجد الاقصیٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران حاضری محدود کر دی گئی ہے، اور تعداد 10 ہزار مقرر کی گئی ہے۔ یہ پابندیاں رمضان المبارک کے آغاز پر نافذ کی گئی ہیں۔ اسرائیلی ادارے **کوگات** کے مطابق صرف وہی فلسطینی داخل ہو سکیں گے جن کے پاس پیشگی خصوصی اجازت نامہ ہوگا۔ مردوں کے لیے کم از کم عمر 55 سال، خواتین کے لیے 50 سال جبکہ 12 سال تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ آنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ پابندیاں صرف مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس — مقبوضہ بیت المقدس کے گورنریٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اردگرد جاری کھدائیوں سے مسجد کے بعض حصے منہدم ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نہ صرف مقدس مقام کے اردگرد بلکہ پرانے شہر کے نیچے سرنگیں کھود رہا ہے جو قریبی یہودی بستیوں کو آپس میں ملانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

گورنریٹ کے مشیر معروف الرفاعی نے العربیہ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کھدائیاں مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور اس عمل سے قدیم عمارتیں، مکانات اور اسکولز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “اسرائیل نہ صرف مسجد اقصیٰ کے موجودہ اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور توسیع پسندانہ مقاصد بھی پوشیدہ ہیں۔”

الرفاعی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے علاقے میں تازہ کارروائیاں کرتے ہوئے فلسطینیوں کی ورکشاپس، فیکٹریوں اور دھاتی مصنوعات بنانے والے کارخانوں کے انہدام کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مسجد اقصیٰ کے قریب سے نئی سڑک اور پل تعمیر کر کے اناتا جنکشن کو حزمہ چیک پوائنٹ سے جوڑنے کا ارادہ ہے۔

دوسری جانب، جمعرات کی صبح یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، درجنوں آباد کار فوجی سکیورٹی کے حصار میں مسجد کے صحن میں داخل ہوئے، جو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی دانستہ کوشش تھی۔

اس دوران اسرائیلی فورسز نے مسجد کے تمام دروازوں پر سکیورٹی سخت کر دی اور علاقے میں فوجی نفری میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے