ٹرمپ تقریر کی ترمیم پر تنازع – بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی نے استعفیٰ دے دیا
لندن — برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں ترمیم سے متعلق تنازع کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ساتھ بی بی سی نیوز کی چیف ایگزیکٹو ڈیبورا ٹرنس نے بھی استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
بی بی سی کو حالیہ مہینوں میں اپنی سیاسی غیرجانبداری پر سخت تنقید کا سامنا تھا، خاص طور پر ٹرمپ، اسرائیل-حماس جنگ، اور ٹرانس جینڈر معاملات کی کوریج کے حوالے سے۔
تازہ ترین تنازع اس وقت ابھرا جب ڈیلی ٹیلی گراف نے ایک اندرونی بی بی سی دستاویز کے حوالے سے رپورٹ شائع کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ بی بی سی کے معروف پروگرام “پینوراما” میں ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے دو مختلف حصوں کو جوڑ کر ایڈٹ کیا گیا تاکہ وہ کیپیٹل ہل حملے کی ترغیب دیتے نظر آئیں۔
اپنے بیان میں ٹم ڈیوی نے کہا “یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ میں چیئرمین اور بورڈ کی مسلسل حمایت کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔ میں نے کئی سالوں تک اس کردار کے شدید تقاضوں پر غور کیا اور محسوس کیا کہ اب نئے قیادت کے لیے راستہ کھولنے کا وقت ہے۔”
دستاویز کے مطابق، بی بی سی کی ڈاکیومنٹری میں ٹرمپ کے جملے “ہم کیپیٹل تک چلیں گے” اور “ہم جہنم کی طرح لڑیں گے” کو ایک ساتھ ایڈٹ کر کے پیش کیا گیا، حالانکہ یہ الفاظ ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں میں ادا کیے گئے تھے۔
اس ترمیم پر بی بی سی پر سیاسی تعصب کے الزامات لگائے گئے، جس سے ادارے کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔
بی بی سی بورڈ نے ڈیوی کے استعفے کے بعد نئے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
ٹم ڈیوی 2020 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ان کے دور میں ڈیجیٹل منتقلی اور لائسنس فیس اصلاحات کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے تھے۔