بنگلہ دیش میں ہندو شخص کے قتل کے خلاف نئی دہلی میں سینکڑوں افراد کا احتجاج

0

نئی دہلی – بنگلہ دیش میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک ہندو شخص کے قتل کے خلاف منگل کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سینکڑوں افراد نے بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے قریب احتجاج کیا، جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کے ضلع میمَن سنگھ میں گزشتہ ہفتے 27 سالہ فیکٹری ورکر دیپو چندرا داس کو ہجوم نے مبینہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کے الزام پر تشدد کا نشانہ بنایا، بعد ازاں آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے میں ملوث کم از کم 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد ہندو اکثریتی بھارت اور مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بنگلہ دیش میں فروری میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک نے حالیہ دنوں میں ویزہ خدمات معطل کر دی ہیں۔

بھارتی ٹی وی چینلز کی فوٹیج کے مطابق منگل کے احتجاج میں شامل افراد نے بیریئرز عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی، محمد یونس کی تصاویر نذرِ آتش کیں اور بعض بینرز پر "بنگلہ دیش کا بائیکاٹ” کے مطالبات درج تھے۔

ایک مظاہر نے بھارت ٹوڈے سے گفتگو میں کہا "ہم نے دہلی میں بنگلہ دیش کے ہندوؤں کی آواز بلند کی ہے۔ جب تک وہاں ایک بھی ہندو کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔”

اسی نوعیت کے مظاہرے جموں و کشمیر سمیت بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی کیے گئے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی حکومت نے منگل کے روز بھارتی سفیر کو طلب کر کے ہفتے کے روز نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج اور دیگر سفارتی مشنز کے باہر مبینہ پرتشدد مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا اور بھارت سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو کہا تھا کہ نئی دہلی میں ہونے والا مظاہرہ 20 سے 25 افراد پر مشتمل تھا، جسے پولیس نے چند منٹ میں منتشر کر دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت غیر ملکی سفارتی مشنز کے تحفظ کا پابند ہے۔

یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش اندرونی سیاسی بے چینی کا بھی شکار ہے، خاص طور پر نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد، جنہیں گزشتہ ہفتے فروری کے انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران سر میں گولی ماری گئی تھی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.