امریکی دباؤ پر اسرائیلی وزیر دفاع کا یوٹرن, غزہ پر مستقل قبضے کا بیان واپس لے لیا

0

امریکی دباؤ کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے غزہ سے متعلق اپنے متنازع بیان سے پسپائی اختیار کر لی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا غزہ میں نئی بستیاں قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

یہ پسپائی ایسے وقت سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل یسرائیل کاٹز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے قریب بیت ایل بستی میں 1200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی مکمل طور پر غزہ سے انخلا نہیں کرے گی، اور مناسب حالات میں غزہ کے شمال میں نئی آبادکاری چوکیوں کے قیام کا امکان موجود ہے۔

مؤقف میں تبدیلی

بعد میں وزیر دفاع کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں کسی بھی قسم کی نئی بستی قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ بیان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی صرف سکیورٹی مقاصد تک محدود ہوگی۔

امریکی ردعمل اور دباؤ

اسرائیلی نشریاتی اداروں کے مطابق یسرائیل کاٹز کے مؤقف میں تبدیلی کے پیچھے امریکی دباؤ کارفرما تھا۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی اسرائیل میں قائم سول و فوجی رابطہ مرکز میں موجود ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن یسرائیل کاٹز کے بیانات پر شدید برہم تھا کیونکہ یہ بیانات ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے سے متصادم تھے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق اس منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرنا تھا اور امریکا غزہ میں کسی نئی اسرائیلی آبادکاری کی حمایت نہیں کرتا، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع کو وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔

حماس کا ردعمل

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے یسرائیل کاٹز کے ابتدائی بیان کی شدید مذمت کی۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ غزہ میں مستقل فوجی موجودگی سے متعلق بیانات جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ قابض طاقت غزہ کے عوام کو بے دخل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جو نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے اور امریکی صدر کے امن منصوبے سے بھی متصادم ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.