گلوکارہ حمیرا چنا کی پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری پر کڑی تنقید

0

معروف پاکستانی پلے بیک گلوکارہ حمیرا چنا نے پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اور جانبداری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مواقع چند مخصوص فنکاروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ تجربہ کار گلوکاروں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حمیرا چنا کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں فیورٹ ازم اس حد تک عام ہو چکا ہے کہ بار بار انہی چند ناموں کے ساتھ کام کیا جاتا ہے اور باقی فنکار پس منظر میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی اس جانبداری کا سامنا کر چکی ہیں اور یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ انڈسٹری کی مجموعی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ میوزک انڈسٹری اصل صلاحیت کو ترجیح دے اور تمام فنکاروں کو برابر مواقع فراہم کرے۔

لیجنڈ فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں محض زبانی طور پر لیجنڈ قرار دے دیا جاتا ہے مگر عملی طور پر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیا ان کے پاس کام بھی موجود ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر فنکار کے انتقال کے بعد یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو انہیں فلاں گانا دے دیا جاتا، یا پھر کسی کے بیرونِ ملک سے واپس آنے پر اچانک اسے اسٹار بنا دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ حمیرا چنا نے 1990 کی دہائی میں فلمی گانوں کے ذریعے نمایاں شہرت حاصل کی، نگار ایوارڈ اپنے نام کیا اور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے متعدد لوک کلام پاکستان ٹیلی وژن پر اپنی آواز میں پیش کر کے اپنی فنی پہچان کو مزید مضبوط کیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.